Saturday, 11 February 2012

یہ دنیا بھری ہوئی  ہے بے وفاؤں سے
    یہ کہ رہا ہوں میں ہواؤں سے
    کسی کو کیا پتا کے کون کیا ہے
سب نکل جاتے ہیں بوقت ضرورت دبے پاؤں سے