Thursday, 11 October 2012

تنہائی

رات میں تنہا بیٹھا تھا
دل سے اکثر کہتا تھا
بھول بھی جا اب اسکو جسے
کبھی تو اپنا کہتا تھا
_____________________
ہر پل ترے خوابوں میں
خیالوں میں گمانوں میں
گمان جس کا رہتا تھا
بھول بھی جا اب اسکو جسے
کبھی تو اپنا کہتا تھا
______________________
ذکر تو اب بھی کرتا ہے
بھلا ہو یا برا ہو چاہے
وہ جو تجھہ میں رہتا تھا
بھول بھی جا اب اسکو جسے
کبھی تو اپنا کہتا تھا
_______________________
آنکھوں میں سمندر اب بھی ہے
دل اشک بار اب بھی ہے
واسطے اسکے، لئے جس کے پہلے بہتا تھا
بھول بھی جا اب اسکو جسے
کبھی تو اپنا کہتا تھا
_________________________

Wednesday, 10 October 2012

T20

آج میں نے یہ جانا کہ اپنے وطن سے محبّت کیا ہوتی ہے .اپنے وطن کی ہر چیز سے محبّت انسان کے خون میں شامل ہوتی ہے   .کئی  سال پہلے جب مجھہ  سے میرے استاد نے سوال پوچھا تھا کہ کیا تم اپنے وطن سے محبّت  کرتے ہو تو میراجواب ہاں ہی تھا مگر اس ہاں کا اصل مطلب مجھے آج پتا چلا . آج جب ہماری کرکٹ  ٹیم سری لنکا سے میچ  میں ہآر  گئی . جب سری لنکن ہنس رہے تھے تو ہماری آنکھیں اشک بار تھیں . میں صرف اپنی حد تک بات کر سکتا ہوں کیوں کہ مجھے دوسروں کہ بارے میں نہ تو پتا ہے اور نہ ہی میں ان کے ذاتی  معاملات میں دخل اندازی کرنا چاہتا ہوں .
لیکن میری آنکھوں میں جو اشکوں کا سمندر تھا وہ میری انا کو ٹھیس  پہنچنے کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ وہ میرے ان ہم وطن بھایوں کی حالت کے خیال پر بہ رہے  تھے جو کہ ہماری "عزت " کی حفاظت کے لئے جی جان  کی بازی لگا کر کھیلتے  ہیں اور اگر جیت جایئں  تو ان کی خوب پزیرائی  کی جاتی ہے لیکن اگر ہمارے وہی "مجاہد " بھائی  ہار  جایئں  تو ہمارے اہل وطن ان کی حوصلہ افزائی کی بجاے  ان کو گالیاں دینے لگتے ہیں .ان کو طرح  طرح  کے القابات  سے نوازا جاتا ہے .
ارے بھی ان سےزیادہ دکھہ  کس کو ہو گا جو ہار کا بھی سامنا کرتے ہیں اور پھر ہماری  باتوں کی یلگار کا بھی . لیکن نہیں ہمیں ان کا کوئی احساس نہیں . ہم تو بس اس عزت ہی کو رو رہے ہیں جو اس مچ میں شکست کی وجہ سے ہم کھو چکے ہیں .اور ہاں  یہ کیسی عزت ہے جس کے کھو جانے پر اپنوں کو ہی بے عزت کیا جاۓ . ہم نے ہی تو ان کو دلاسا دینا ہے .ان کا ساتھہ  دینا ہے اور اگر نہیں دے سکتے تو یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ جب ہم کسی کا غم نہیں بآنٹتے  تو ہمیں کوئی حق حاصل نہیں کے اس کی خوشی میں شریک ہوں .
حارث 

جب تو گیا

سوچتی تھی کہ بن تیرے کیسے جیوں  گی
         گزارا زندگانی کا کیونکر کروں گی 
_____________________________
زندگی تجھہ سے شروع  اور تجھی  پر ختم کروں گی 
                      جب تو ہی نہیں تو یہاں کیا کروں گی 
___________________________________
ترے ساتھ کے بغیر دنیا سے کیسے لڑوں گی 
   ان الفاظ کی یلغار کا سامنا کیسے کروں گی
___________________________________
اور کچ نہیں ستاتا خیال اس کے سوا 
کون تھامے گا مجھے جب میں رو پڑوں  گی  
______________________________________
تیرے  بن  بے  سایہ  ھو  گیا  ہوں  میں
چھوڑ  گیا  ہے  جب سے  شہر  میں تو تنہا
____________________________

ہر نظر  اجنبی  چبھے  کانٹے  کی  مانند
     کاٹے  دل  کو سینے کو چیر کر
_____________________________

اب کے برس تنہا ہی رہوں گا
تیری میٹھی یادوں کے سہارے ہی جیوں  گا
______________________________