Sunday, 10 November 2013

انقلاب

یہ جو سناٹا  سا چھایا ہوا ہے فضاؤں میں
کچھ اور نہیں یہ نقارہ انقلاب ہے

Wednesday, 3 July 2013

Hansi

pyaar ko khel samajh kay kartay hain wo
jaan tak daynay ki haami bhartay hain wo
par jab aata hai wqtay aazmayesh
rukh apna mor kay chal partay hain wo

Thursday, 4 April 2013

جان تمنا

چاہتے ہیں اتنا تجھے اے جان تمنا
دل تو دے ہی چکے ہیں جان بھی دے دیں گے
..............................................................
روتے ہیں رات دن یاد کر کے تجھے
کسی دن یونہی تری یاد میں دم بھی دے دیں گے
...............................................................
بس اک بار مسکرا کر دیکھو تو سہی ہماری طرف
عمر بھر کے لئے ہاتھ اپنا ترے ہاتھ میں دے دیں گے
...................................................................
پھر دینا دم کا ہی جدائی کا سبب ہوگا ہماری
پر وعدہ رہا کہ وہ بھی تجھ سے پہلے ہم دیں گے
...................................................................
 

Wednesday, 3 April 2013

Khwab

تجھے دیکھا اور دیکھتے ہی رہ گئے
ان آنکھوں سے نہ جانے کیا کچھ کہ گئے

................................................

... پھر پتا چلا کہ وہ تو اک خواب تھا

آنکھ کھلتے ہی تنہا ہم رہ گئے

...............................................

جب پوچھا انہوں نے کہ تمہاری ہنسی کو کیا ہوا

اشک بن کر جذبات آنکھوں سے بہہ گئے   

GHAM

روٹھے رہتے ہیں اب وہ ہر وقت ہی ہم سے
لگتا ہے کہ اب ہم سے رشتہ جوڑ لیا غم نے
..........................................................
ان کی گلی میں بھی جانا اب چھوڑ دیا ہم نے
پر یہ مت سوچنا کہ وعدہ وفا توڑ دیا ہم نے

Monday, 18 March 2013

کارواں

ڈر لگتا ہے بتانے سے کہ کتنا چاہتے ہیں تجھے
کوئی تو وجہ ہے جو اتنا سراہتے ہیں تجھے
...........................................................
رات سے دن ہوا اور دن سے رات
پھر سے یاد یی خوشیوں کی وہ  برسات
............................................................
کہ جب ساتھ تو ہوتا ہے تو لگے ہر منزل آساں
کہ خاطر تیری تو کر دیں یہ جاں بھی قربان
.............................................................
کہ ملا ہے تو ہمیں سو جتن کے بعد
جانے دیں تجھے یونہی اتنے نہیں ہم نادان
...........................................................
کبھی تو دیدار کرا دو کم از کم خوابوں ہی میں آ کر
انتظار کرتے ہیں یہاں  ہم بھی تیرے قدر دان
...........................................................
رفتار تیز ہے اشکوں کی یا ہاتھوں کی میرے
شاید یہ جذبات ہی ہیں جو ہیں ابھی جوان
.................................................    
 

Thursday, 14 March 2013

شکوۂ دل

وہ میرا ہے ، میرا تھا پر وہ سمجھ نہ سکا -
اس دل میں اسی کا بسیرا  تھا پر وہ سمجھ نہ سکا
------------------------------------------------
شیشے کا کھلونا سمجھ کر جسے توڑ دیا اس نے -
وہ در حقیقت دل میرا تھا پر وہ سمجھ نہ سکا
----------------------------------------------
حارث  قاضی 

Thursday, 21 February 2013

فرہنگ

اس قدر محبت ہے تم سے اے جاں
دل تو دے ہی چکے ہیں جاں بھی دے دیں گے 
---------------------------------------
تڑپتے ہیں رات دن تیری ہی خاطر ہم 
کیسے بیان کریں یہ حال دل تم سے 
----------------------------------------
روتے ہیں کبھی، کبھی ہنستے ہیں بلا وجہ 
لوگ کہتے ہیں پاگل پر ہم تو دیوانے ہیں ترے 
-----------------------------------------
ہم محبت کی راہ پر چلے تو روکا تھا لوگوں نے 
نہ جا اس جانب کہ یہ راہ رنج و الم ہے
شاید سچ ہی کہا تھا انہوں نے ہم سے
تبھی تو آج آنکھوں میں اشک اور ہاتھوں میں قلم ہے
-------------------------------------------
تجھے تو پرواہ نہیں اس دل مضطر کے اضطراب کی
پر اسے تو طلب ہے تیرے نینوں کی شراب کی
-------------------------------------------
یا بس اتنا ہو  احسان ہم پر اے جان جاں
کر کچھ ایسا  کہ تھم جاۓ یہ سانس اور نکل جاۓ جاں
-----------------------------------------------

ترانہ عشق

تم سے دل لگایا تو یہ جانا
کہ ہوتا کیا ہے ہونا دیوانہ
----------------------------------------------------
کچھ لوگ کہتے ہیں محبت کو محض قصّہ و افسانہ             -
اور کچھ خوابوں کا بے معنی تانا بانا                               -
-----------------------------------------------------
کچھ منزل سے پہلے منزل                                            -
اور کچھ اک عارضی ٹھکانہ                                         -
-----------------------------------------------------
پر مجھے انکی باتوں میں نہیں آنا                                   -
چاہے چھوڑے نہ چھوڑے یہ زمانہ مجھے ڈرانا                -
-----------------------------------------------------
تم میری ہو اور میری ہی ہو کر رہ جانا                           -
بس اک بار اپنے لبوں سے یہ بات تو کہ جانا                    -
-----------------------------------------------------
پھر کیا یہ دنیا  مرے لیے اور کیا یہ زمانہ                       -
جب شمع جلی ہے پروانے کی خاطر تو پروانے کا کیا گھبرانا
-----------------------------------------------------

Friday, 8 February 2013

Khushi

اب کی  رت یہ خوشی  کیسی آئی کہ
خوش ہو کہ بھی ہم خوش نہیں
تری اہمیت ہے اس قدر اس جیون میں
کہ اگر تو نہیں تو کچھہ  نہیں