ڈر لگتا ہے بتانے سے کہ کتنا چاہتے ہیں تجھے
کوئی تو وجہ ہے جو اتنا سراہتے ہیں تجھے
...........................................................
رات سے دن ہوا اور دن سے رات
پھر سے یاد یی خوشیوں کی وہ برسات
............................................................
کہ جب ساتھ تو ہوتا ہے تو لگے ہر منزل آساں
کہ خاطر تیری تو کر دیں یہ جاں بھی قربان
.............................................................
کہ ملا ہے تو ہمیں سو جتن کے بعد
جانے دیں تجھے یونہی اتنے نہیں ہم نادان
...........................................................
کبھی تو دیدار کرا دو کم از کم خوابوں ہی میں آ کر
انتظار کرتے ہیں یہاں ہم بھی تیرے قدر دان
...........................................................
رفتار تیز ہے اشکوں کی یا ہاتھوں کی میرے
شاید یہ جذبات ہی ہیں جو ہیں ابھی جوان
.................................................
کوئی تو وجہ ہے جو اتنا سراہتے ہیں تجھے
...........................................................
رات سے دن ہوا اور دن سے رات
پھر سے یاد یی خوشیوں کی وہ برسات
............................................................
کہ جب ساتھ تو ہوتا ہے تو لگے ہر منزل آساں
کہ خاطر تیری تو کر دیں یہ جاں بھی قربان
.............................................................
کہ ملا ہے تو ہمیں سو جتن کے بعد
جانے دیں تجھے یونہی اتنے نہیں ہم نادان
...........................................................
کبھی تو دیدار کرا دو کم از کم خوابوں ہی میں آ کر
انتظار کرتے ہیں یہاں ہم بھی تیرے قدر دان
...........................................................
رفتار تیز ہے اشکوں کی یا ہاتھوں کی میرے
شاید یہ جذبات ہی ہیں جو ہیں ابھی جوان
.................................................