Monday, 18 March 2013

کارواں

ڈر لگتا ہے بتانے سے کہ کتنا چاہتے ہیں تجھے
کوئی تو وجہ ہے جو اتنا سراہتے ہیں تجھے
...........................................................
رات سے دن ہوا اور دن سے رات
پھر سے یاد یی خوشیوں کی وہ  برسات
............................................................
کہ جب ساتھ تو ہوتا ہے تو لگے ہر منزل آساں
کہ خاطر تیری تو کر دیں یہ جاں بھی قربان
.............................................................
کہ ملا ہے تو ہمیں سو جتن کے بعد
جانے دیں تجھے یونہی اتنے نہیں ہم نادان
...........................................................
کبھی تو دیدار کرا دو کم از کم خوابوں ہی میں آ کر
انتظار کرتے ہیں یہاں  ہم بھی تیرے قدر دان
...........................................................
رفتار تیز ہے اشکوں کی یا ہاتھوں کی میرے
شاید یہ جذبات ہی ہیں جو ہیں ابھی جوان
.................................................    
 

Thursday, 14 March 2013

شکوۂ دل

وہ میرا ہے ، میرا تھا پر وہ سمجھ نہ سکا -
اس دل میں اسی کا بسیرا  تھا پر وہ سمجھ نہ سکا
------------------------------------------------
شیشے کا کھلونا سمجھ کر جسے توڑ دیا اس نے -
وہ در حقیقت دل میرا تھا پر وہ سمجھ نہ سکا
----------------------------------------------
حارث  قاضی