Thursday, 4 April 2013

جان تمنا

چاہتے ہیں اتنا تجھے اے جان تمنا
دل تو دے ہی چکے ہیں جان بھی دے دیں گے
..............................................................
روتے ہیں رات دن یاد کر کے تجھے
کسی دن یونہی تری یاد میں دم بھی دے دیں گے
...............................................................
بس اک بار مسکرا کر دیکھو تو سہی ہماری طرف
عمر بھر کے لئے ہاتھ اپنا ترے ہاتھ میں دے دیں گے
...................................................................
پھر دینا دم کا ہی جدائی کا سبب ہوگا ہماری
پر وعدہ رہا کہ وہ بھی تجھ سے پہلے ہم دیں گے
...................................................................
 

No comments:

Post a Comment