اس نے گلہ کیا کہ دل توڑا ہے ہمارا تم نے
ہم ہنس دئیے، کچھ کہہ نہ سکے ، فقط اتنا
کہ، تماشا تو تم نے بنایا ہماری محبت کا
اعلان کیا جو تم نے، ہم سے اپنی عداوت کا
گر محبت ہوتی ہم سے تو یوں عشق نہ لڑاتی پھرتیں
کہ ہے محبت تو نام ان سب اصولوں سے بغاوت کا
طلبگار تھا یہ دل کبھی تری قرابت کا
پر حیف تو سمجھ نہ سکی راز کبھی اس عبادت کا
زمین پر گر کر آنسو تیری تصویر بنا دیتے ہیں
پھر کیسے کہہ سکتی ہے تو کہ ہمیں پتا نہیں رموز محبت کا