Sunday, 7 September 2014

گھر

ٹوٹے ہوئے دل کا رونا رو رہے تھے ہم
دل ٹوٹ گیا ، کسی کا گھر ٹوٹا ہوا دیکھ کر

Wednesday, 3 September 2014

رموز محبت

اس نے گلہ کیا کہ دل توڑا  ہے ہمارا تم نے
ہم ہنس دئیے، کچھ کہہ نہ سکے ، فقط اتنا

کہ، تماشا تو تم نے بنایا ہماری محبت کا
اعلان کیا جو تم نے، ہم سے اپنی عداوت کا

گر محبت ہوتی ہم سے تو یوں عشق نہ لڑاتی پھرتیں
کہ ہے محبت تو نام ان سب اصولوں سے بغاوت کا

طلبگار تھا یہ دل کبھی تری قرابت کا
پر حیف تو سمجھ نہ سکی راز کبھی اس عبادت کا

زمین پر گر کر آنسو تیری تصویر بنا دیتے ہیں
پھر کیسے کہہ سکتی ہے تو کہ ہمیں پتا نہیں رموز محبت کا   

Tuesday, 2 September 2014

تڑپ


بتانا چاہتے تھے تجھے  جو وہ بتا نہ سکے
کراہنا چاہتے تھے سر محفل پر آہ ، کراہ نہ سکے
_________________________________
اشکوں کا سبب جو بےچینی ہے دل کی وہ اس لئے ہے کیونکہ
وعدہ وفا نبھانا چاہتے تھے پر افسوس وہ نبھا نہ سکے
__________________________________
دل پریشان ہے بہت، دماغ بھی ناکارہ سا ہو ہی گیا
تری یاد مٹانا چاھتے تھے دل سے، پر افسوس وہ مٹا نہ سکے
_________________________________________