بتانا چاہتے تھے تجھے جو وہ بتا نہ سکے
کراہنا چاہتے تھے سر محفل پر آہ ، کراہ نہ سکے
_________________________________
اشکوں کا سبب جو بےچینی ہے دل کی وہ اس لئے ہے کیونکہ
وعدہ وفا نبھانا چاہتے تھے پر افسوس وہ نبھا نہ سکے
__________________________________
دل پریشان ہے بہت، دماغ بھی ناکارہ سا ہو ہی گیا
تری یاد مٹانا چاھتے تھے دل سے، پر افسوس وہ مٹا نہ سکے
_________________________________________
No comments:
Post a Comment