رشتے بھروسے کے ہوتے ہیں، عزت کے ہوتے ہیں، قدر کے ہوتے ہیں. اور یہ سب کچھ یکطرفہ کبھی نہیں ہوتا. مقولہ ہے کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے. اسی طرح رشتے بھی نبھانے سے نبھتے ہیں. خواہ وہ خونی ہوں یا خود بناۓ ہوئے.
جیسے ایک عمارت کی تعمیر کے لئے استعمال کیا جانے والا میٹریل جتنا خالص ہو گا، اتنی ہی اچھی عمارت ہوتی ہے. ویسے ہی جذبات جتنے خالص ہوتے ہیں اتنی ہی مظبوط ان رشتوں کی بنیاد ڈلتی ہے.
رشتہ ساتھ کا ہوتا . ساتھ دینا بھی اور نبھانا بھی. جس سے بھی آپکا رشتہ ہو، انسان خود ہی یہ اخذ کر لیتا ہے، یہ امید باندھ لیتا ہے کہ وہ مشکل وقت اور ہر مصیبت میں ہمارا ساتھ دیں گے. مگر اکثر اوقات یہ امیدیں دل آزاری کا سامان ثابت ہوتی ہیں.
ایسے رشتے جن میں بھروسہ، بھرم اور جذبات ختم ہو جاتے ہیں، وہ مردہ ہو چکے ہوتے ہیں. اور اس بوسیدہ عمارت کو کلی طور پر منہدم کرنا زیادہ بہتر ہوتا ہے کہ اس طرح انسان منافقت سے محفوظ رہتا ہے.